وکی اقتباسات:سانچے

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

قلمکار تحریر خیالی سے اقتباس شہر میں دودھ سپلائی کر کے واپس گاؤں کی طرف آ رہا تھا، سائیکل پر ہی تھا۔وہ میری شاگرد سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔میں نے پاس جا کر پوچھا کیا وجہ ہے، کیا آپ انتظار کر رہی ہیں کسی کا؟کہنے لگی کہ نہیں، میں وہ اُس پہاڑی کی دوسری طرف جا رہی تھی اور گاڑی خراب ہو گئی ہے۔میں نے کہا کہ آپ کو وہاں کوئی کام ہے یا ویسے ہی گھومنے پھرنے آئی ہوئی ہیں۔کہنے لگی جی مجھے بہت ضروری کام ہے، استاد جی رہتے ہیں وہاں، انہی کو ملنے آئی ہوں۔پھر اس نے موبائل پر گوگل نقشہ کھولا اور پھر پہاڑ کی طرف دیکھ کر کہا کہ نادرا کی بتائی ہوئی لوکیشن اسی طرف آ رہی ہے۔پھر میں نے اسے اپنے ساتھ سائیکل پر بٹھایا اور گاؤں کی طرف چل دئیے۔پھر اسے اپنے گھر لے گیا۔وہ گوگل نقشہ دیکھتے ہوئے گلی میں نکل پڑی تو میں نے کہا کہ رکو، کئی دفعہ لوکیشن مکمل واضح طور پر نہیں ظاہر ہوتی موبائل پر۔اس لیے یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں، میں آپ کو پہنچا دوں گا۔پھر میں نے پوچھا کہ آپ کو کیا کام ہے باوا سے؟کہنے لگی کہ ہے ایک ضروری کام۔پھر میں نے کہا کہ اگر سامنے آ جائے تو پہچان لیں گی؟کہنے لگی ہاں شاید، مگر اب تو دس سال سے بھی زیادہ عرصہ ہو گیا ہے دیکھے ہوئے۔پھر میں نے کمرے میں لے جا کر کونے میں رکھے ہوئے ایک سندوق کو کھولا اور اس میں سے تصاویر اور اعزازات نکال کر اسے دیکھائے۔اس نے مجھے پہچان لیا اور میری تصویریں چومنے لگی۔پھر میں نے کہا کہ اب بتائیں کیا کام ہے؟کہنے لگی کہ بات کچھ یوں ہے کہ ہمارے ملک میں ہونے والے ہیں الیکشن، تو میں چاہتی ہوں کہ آپ وہاں میری کیمپین چلائیں۔میں نے کہا کہ میں فقیر کیا کیمپین کروں گا۔تو اس نے کہا کہ آپ کے بہت سے شاگرد وہاں اونچے اونچے عہدوں پر ہیں۔ اور وہاں کے عوام بھی آپ کو بہت چاہتے ہیں۔پھر میں نے ایک اہم مقصد بھی سوچا۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی چلا گیا۔پھر وہاں تقاریر کیں۔الیکشن ہوئے، وہ جیت گئی اور صدر منتخب ہو گئی۔پھر اُس نے کہا کہ بزرگو آج مانگو جو آپ کا دل چاہتا ہے۔میں نے کہا سچی؟ اس نے کہا ہاں ہاں بلکل۔میں نے کہا کہ صرف ایک وزارت، اُس نے کہا کہ جس مرضی ہے وزارت کا چارج سنبھال لیں، آپ ویسے بھی پڑھے لکھے اور قابل ہیں۔میں نے کہا کہ کوئی رکاوٹ تو نہیں ہو گی مجھے؟ کہنے لگی کہ آپ آج سے خود کو صدر ہی سمجھیں، رکاوٹ کیسی؟ میں نے پھر اپنی مرضی کی وزارت ہی کو ترجیح دی۔ پھر کہا کہ سب کے رُخ اینڈیا کی طرف موڑ دو۔ کنٹرول والا بٹن میرے ہاتھ دے دو۔پھر میں نے بٹن کے سامنے کھڑے ہو کر فون کال ملائی اور کہا مودی تیار ہو جا۔پھر بٹن دبا دیا، ڈز۔۔ڈز۔۔ڈز۔وہ دوڑتی ہوئی سیدھی کنٹرول روم آئی اور کہنے لگی کیا ہو رہا ہے؟؟؟مجھے غصے میں دیکھ کر ہنسنے لگی، پھر پوچھا ڈرون چلائیں؟میں نے کہا سب کچھ چلے گا۔آج یا آر یا پار۔خیالی سے اقتباس

خیالی سے اقتباس 1.jpg