ڈاکٹر حمید اللہ

وکی اقتباسات سے
Jump to navigation Jump to search

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9 فروری 1908ء، انتقال : 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔۔[1]

اذان و نماز عربی میں ہی کیوں؟[ترمیم]

  • فرض کیجئے ایک انگریز مسلمان چین جاتا ہے جب کہ وہ چینی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتا، فرض کیجئے وہ گلی ميں یہ الفاظ سنتا ہے "چن چو چی شان"فطری بات ہے اس کے پلے کچھ نہيں پڑےگا۔ اگر اس کے کانوں میں اذان کے الفاظ "اللہ اکبر" کا چینی ترجمہ پڑے گا تو وہ کس طرح جان سکے گا کہ یہ اذان کی آواز ہے اور شاید وہ نماز پنجگانہ میں سے کوئی یا تھر جمعہ کی نماز بھی ادا نہ کر سکے۔۔۔۔اس لیے ایک عالمگیر مذہب کا تقاضا ہے کہ اس کے پیرو کاروں میں بعض بنیادی چیزیں مشترک ہوں۔اس میں اذان اور نماز میں پڑھی جان والی دعاہیں اور کلمات ایسی چیزیں ہیں جن کو بنیادی قرار دیا جا سکتا ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.drmhamidullah.com ڈاکٹر محمد حمید اللہ
  2. اسلام کیا ہے، بیکن بکس، ملتان
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں ڈاکٹر حمید اللہ.

بیرونی روابط[ترمیم]