کیمیائے سعادت

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

کیمیائے سعادت امام غزالی کی شاہکار تصنیف ہے جو بارہویں صدی عیسوی کے اوائل عشروں میں لکھی گئی تھی۔

اقتباسات[ترمیم]

  • گزشتہ انبیاء کی کتب میں مذکور تھا کہ اُن سے اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔‘‘ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کا دِل آئینے کی طرح ہے۔ جو کوئی اِس میں غور کرے گا، خدا کو دیکھے گا، اور بہت سے لوگ اپنے میں غور کرتے ہیں مگر خدا کو نہیں پہچانتے۔ تو جس اعتبار سے دِل کی معرفت کا آئینہ ہے، اُس لحاظ سے دِل کو جاننا ضروری ہے۔
    • باب اول: معرفت الٰہی، صفحہ 59۔

مزید پڑھیں[ترمیم]

مزید دیکھیں[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں کیمیائے سعادت.