رسل

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

برٹرینڈ رسّل 18 مئی 1872 میں پیدا ہوئے اور دو فروری 1970 میں انتقال کر گئے۔ وہ صرف برطانیہ ہی کے نہیں دنیا بھر میں ایک عظیم فلسفی، ماہر منطق، ماہر ریاضی، مورخ اور سماجی نقاد کے طور جانے جاتے ہیں۔ انھیں ایک لبرل یا آزاد خیال اور سوشلسٹ بھی کہا جاتا ہے لیکن وہ ہمیشہ یہ کہہ کر اس کی تردید کرتے رہے کہ وہ ان میں سے کسی کی معیار پر بھی خود کو پورا نہیں پاتے۔ رسّل جنگ کے مخالفت کرنے والے دنیا کے سرفہرست لوگوں میں شامل رہے، عالمی جنگ کے دوران انھیں جیل میں بھی ڈال دیا گیا۔ انھوں نے سٹالن پر بھی کڑی تنقید کی اور ایک بڑی سامراج دشمن بھی رہے، ہٹلر کے خلا نکلنے والوں میں بھی وہ انتہائی نمایاں تھے، ویت نام کی جنگ میں انھوں نے امریکہ کی شدید مخالفت کی، ایٹمی اسلحے کی مخالفت میں بھی سب سے آگے رہنے والوں میں شامل تھے۔ انھیں 1950 میں امن کا نوبل انعام پیش کیا گیا۔

اقوال[ترمیم]

  1. جنگ کسی کا صحیح ہونا طے نہیں کرتا۔ صرف یہ طے کرتا ہے کہ کون باقی نہیں رہ سکا۔
  2. صرف تعاون ہی انسانیت کو بچا سکتا ہے۔
  3. خوف پر فتح پانا علم کے آغاز کی علامت ہے۔ [1]
  4. میں اپنے عقیدہ کیلیے کبھی مرنا نہیں چاہوں گا کیوںکہ ہوسکتا ہے کہ میں غلط ہوں۔
  5. آدمی پیدائش سے بےوقوف نہیں جاہل ہوتا ہے۔ اسے تعلیم بے بے وقوف بناتی ہے۔
  6. ہر آسانی سے کیا جانے والا کام آپ خوشی کا باعث بنتا ہے۔[2]
  7. اگر پچاس لاکھ لوگ ایک جھوٹ کو سچ کہیں ، تب بھی وہ جھوٹ ہی رہے گا۔
  8. وہ آدمی جو اپنے دشمن کے نام سے آشنا ہوتا ہے، وہ اس کے ذریعے سے اُس پر طلسماتی برتری حاصل کر سکتا ہے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں رسل.


  1. http://www.brainyquote.com/quotes/authors/b/bertrand_russell.html
  2. http://www.brainyquote.com/quotes/authors/b/bertrand_russell.html
  3. این انکوائری اِن ٹو میننگ اینڈ ٹرتھ‘ کا ترجمہ، بنام:معنی اور صداقت، برٹرینڈ رسّل مترجم: امیر خان حکمت، ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی