مندرجات کا رخ کریں

غالب

ویکی اقتباس سے

مرزا غالب (پیدائش: 27 دسمبر 1797ء – وفات: 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے عظیم ترین شاعر خیال کیے جاتے ہیں۔

اشعار[ترمیم]

  • قید حیات و بند غم ، اصل میں دونوں ایک ہیں‬
    موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟‬
  • بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے ‬
  • اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے‬
    مزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے‬
  • نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا‬
    گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی‬
  • بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
  • نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
    امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
  • ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
    کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

خطوط سے اقتباسات[ترمیم]

معاصرین و محققین کے غالب سے متعلق اقتباسات و آراء[ترمیم]

ڈاکٹر عبادت بریلوی[ترمیم]

  • غالب کی زِندگی بڑی ہی پہلودار تھی۔ وہ شروع سے آخر تک تہہ در تہہ نظر آتی ہے۔ اُس میں بے شمار نشیب و فراز دکھائی دیتے ہیں۔ وہ تو ایک حَسین اور دل آویز پہاڑی سلسلے کی طرح حَسین اور دل آویز، پر شکوہ اور شاندار ہے۔ جلال اور جمال دونوں اِس میں گلے ملتے نظر آتے ہیں۔ رومان و حقیقت کا اِس میں ایک نہایت ہی دلکش اور دِل موہ لینے والا امتزاج ملتا ہے۔
    • حیات غالب پر چند خیالات، مشمولہ غالب اور مطالعہ غالب، صفحہ 3۔

مشتاق احمد یوسفی[ترمیم]

  • غالب کو دیکھیے، ساری عمر ناقدری اور عُسرت و تنگدستی کا رونا روتے رہے ، خصوصاً آخری دِنوں میں۔ لیکن ذرا مرض الموت میں اُن کی آخری غذا تو ملاحظہ فرمائیے۔ صبح کو سات بادام کا شیرہ، قند کے شربت کے ساتھ۔ دوپہر کو سیر بھر گوشت کی یخنی۔تین شامی کباب۔ چھ گھڑی رات گئے پانچ روپئے بھر شرابِ خانہ ساز اور اِسی قدر عرقِ شیر۔
    • آب گم، مضمون: غنودیم، غنودیم (پس و پیش لفظ)، صفحہ 10۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں غالب.

حوالہ جات[ترمیم]